(۴۸۳۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عن أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، قَبْلَ أَنْ نَأْتِیَ أَرْضَ الْحَبَشَۃِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَرُبَ ، وَمَا بَعُدَ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا شَائَ ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃ۔ (ابوداؤد ۹۲۱۔ احمد ۱/۳۷۷)
(٤٨٣٨) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے ہم دورانِ نماز نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں نے دورانِ نماز نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کو جب چاہتے ہیں لاگو فرماتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔