(۴۸۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ قَبْلَ أَنْ نَخْرُجَ إلَی النَّجَاشِیِّ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْت عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ ، وَقَالَ : إنَّ فِی الصَّلاَۃ شُغْلاً۔ (بخاری ۱۱۹۹۔ ابوداؤد ۹۲۰)
(٤٨٤٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجاشی کے پاس جانے سے پہلے ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا کہ نماز کی اپنی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔