(۴۸۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سعید ، عن أبی ثُمَامَۃَ الْقَمَّاحِ ، قَالَ: لَقِیت کَعْبًا وَأَنَا بِالْبَلاَطِ قَدْ أَدْخَلْت بَعْضَ أَصَابِعِی فِی بَعْضٍ ، فَضَرَبَ یَدِی ضَرْبًا شَدِیدًا ، وَقَالَ : نُہِینَا أَنْ نُشَبِّکَ بَیْنَ أَصَابِعِنا فِی الصَّلاَۃ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : یَرْحَمُک اللَّہُ تَرَانِی فِی صَلاَۃٍ ؟ فَقَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ فَعَمَدَ إلَی الْمَسْجِدِ ، فَہُوَ فِی صَلاَۃٍ۔ (ابوداؤد ۵۶۳۔ احمد ۴/۲۴۱)
(٤٨٦١) حضرت ابو ثمامہ قماح کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں ، میں حضرت کعب سے ملا، میں نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کیا تو انھوں نے میرے ہاتھ پر زور سے مارا اور فرمایا کہ ہمیں نماز میں انگلیاں چٹخانے سے منع کیا گیا ہے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! آپ کیا مجھے نماز میں دیکھ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ جو شخص وضو کرکے نماز کے ارادے سے نکلتا ہے وہ نماز میں ہوتا ہے۔