(۴۹۰۵) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا وَفْدًا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاہُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِیَعَۃً لَنَا ، فَاسْتَوْہَبْنَاہُ فَضْلَ طَہُورِہِ ، فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ، ثُمَّ جَعَلَہُ لَنَا فِی إدَاوَۃٍ ، فَقَالَ : اخْرُجُوا بِہِ مَعَکُمْ ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَکُمْ فَاکْسِرُوا بِیَعَتَکُمْ ، وَانْضَحُوا مَکَانَہَا بِالْمَائِ ، وَاتَّخِذُوہَا مَسْجِدًا۔ (احمد ۴/۲۳۔ ابن حبان ۱۶۰۲)
(٤٩٠٥) حضرت طلق بن علی کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ ہماری سرزمین میں ایک گرجا ہے۔ ہم نے اسے پاک کرنے کے لیے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور پھر کلی کی اور بچا ہوا پانی ہمارے ایک برتن میں رکھ کر فرمایا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے کو گرا دو اور اس جگہ یہ والا پانی چھڑکو اور اس جگہ کو مسجد بنالو۔