(۴۹۲۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَرَیْنَا ذَاتَ لَیْلَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ أمسستنا الأَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رِکَابُنَا ؟ قَالَ : فَمَنْ یَحْرُسُنَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : فَغَلَبَتْنِی عَیْنِی ، فَلَمْ یُوقِظْنَا إِلاَّ وَقْتَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلاَّ بِکَلاَمِنَا ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی بِنَا۔ (احمد ۱/۴۵۰۔ طبرانی ۱۰۳۴۹)
(٤٩٢٧) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کیا۔ ایک جگہ پہنچ کر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم کچھ دیر کے لیے پڑاؤ ڈال لیں تو ہم کچھ دیر سوجائیں گے اور ہماری سواریاں چر لیں گے۔ چنانچہ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ میں نے کہا میں پہرہ دوں گا۔ لیکن مجھے نیند آگئی اور ہم اس وقت سو کر اٹھے جب سورج طلوع ہوچکا تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہماری باتوں کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا انھوں نے اذان اور اقامت کہی اور آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔