(۵۰۲۲) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ سَأَلَہُ عَنْ قَوْمٍ انْکَسَرَتْ بِہِمْ سَفِینَتُہُمْ ، فَخَرَجُوا ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ؟ فَقَالَ : یَکُونُ إِمَامُہُمْ مَیْسَرَتَہُمْ ، وَیَصُفُّونَ صَفًّا وَاحِدًا ، وَیَسْتَتِرُ کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ بِیَدِہِ الْیُسْرَی عَلَی فَرْجِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَمَسَّ الْفَرْجَ۔
(٥٠٢٢) حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا جن کی کشتی ٹوٹ جائے اور وہ باہر نکلیں تو نماز کا وقت ہوجائے (اور ان کے بدن پر کپڑے نہ ہوں ) تو وہ کیا کریں گے ؟ فرمایا ان کا امام ان کے بائیں طرف ہوگا۔ وہ سب ایک صف بنائیں گے۔ ہر آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کا ستر کرے گا لیکن شرم گاہ کو چھوئے گا نہیں۔