(۵۰۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : إذَا قَبَّلَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ لاَ تُرِیدُ ذَاکَ ، فَإِنَّمَا یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَیْہِ ، وَلَیْسَ عَلَیْہَا وُضُوئٌ ، فَإِنْ قَبَّلَتْہُ ہِیَ فَإِنَّمَا یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَیْہَا ، وَلاَ یَجِبُ عَلَیْہِ ، فَإِنْ وَجَدَ شَہْوَۃً وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ ، وَإِنْ قَبَّلَہَا وَہِیَ لاَ تُرِیدُ ذَاکَ فَوَجَدَتْ شَہْوَۃً ، وَجَبَ عَلَیْہَا الْوُضُوئُ۔
(٥٠٣) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے اور بیوی نہ چاہتی ہو تو مرد کا وضو ٹوٹے گا عورت کا نہیں ٹوٹے گا۔ اگر عورت مرد کا بوسہ لے تو عورت پر وضو لازم ہوگا مرد پر نہیں۔ اگر آدمی کو شہوت محسوس ہو تو اس کا وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور اگر آدمی عورت کا بوسہ لے اور وہ چاہتی تو نہ ہو لیکن اسے شہوت محسوس ہو تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔