(۵۰۹۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِی أُمِّیْ، أَنَّ أَبَاہَا حَدَّثَہَا ، أَنَّ بَعْضَ وَلَدِ أَبِی قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْہِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یَنْفُضُ رَأْسَہُ مُغْتَسِلاً ، فَقَالَ : لِلْجُمُعَۃِ اغْتَسَلْتَ ؟ قَالَ: لاَ ، وَلَکِنْ مِنَ جَنَابَۃٍ ، قَالَ : فَأَعِدْ غُسْلاً لِلْجُمُعَۃِ۔
(٥٠٩٧) حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن ابی قتادہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے بیان کیا کہ ان کے والد فرماتے تھے کہ ابو قتادہ کے ایک صاحبزادے جمعہ کے دن غسل کرکے بالوں کو جھاڑتے ہوئے آئے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا تم نے جمعہ کے لیے غسل کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں یہ جنابت کا غسل تھا۔ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا کہ پھر جمعہ کے لیے بھی غسل کرو۔