(۵۳۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : لَقِیَنِی حَمَّادُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ وَالْمُؤَذِّنُونَ یُؤَذِّنُونَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَقَدْ خَرَجَ الإِمَام ، فَکَلَّمَنِی فَلَمْ أُکَلِّمْہُ ۔ ثُمَّ اجْتَمَعْنَا فِی جُمُعَۃٍ أُخْرَی ، فَکَلَّمَنِی وَالصُّحُفُ تُقْرَأُ ، فَجَعَلَ یُکَلِّمُنِی ، وَلاَ أُکَلِّمُہُ ، فَقَالَ : یَابْنَ أَخِی ، إِنَّمَا کَانَ السُّکُوتُ قَبْلَ الْیَوْمِ إِذَا وَعَظُوا بِکِتَابِ اللہِ ، وَقَالُوا فِیہِ ، فَنَسْکُتُ لِصُحُفِہِمْ ہَذِہِ ؟ ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَکَرْتُہُ لإِبْرَاہِیمَ ، فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ : إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِی أَحَدَہُمَ ، اللہُمَّ ، أَوْ نَفْسَہُ ، إِنَّمَا کَانَ السُّکُوتُ قَبْلُ إِذَا وَعَظُوا بِکِتَابِ اللہِ ، وَقَالُوا فِیہِ۔
(٥٣٣٢) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ جب مؤذن جمعہ کے لیے اذان دے رہے تھے اور امام نماز کے لیے نکل چکا تھا تو میری حضرت حماد بن ابی سلیمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مجھ سے بات کی لیکن میں نے ان سے کوئی بات نہ کی۔ پھر اگلے جمعہ کو ہم دوبارہ ملے تو جب خطوط پڑھے جارہے تھے اس وقت انھوں نے مجھ سے بات کی، وہ مجھ سے بات کرتے رہے لیکن میں خاموش رہا۔ اس پر انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے ! اس دن خاموشی اس وقت لازم ہوتی ہے جب ائمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے وعظ کریں۔ ہم ان خطوط کے لیے کیوں خاموش رہیں ؟ ! حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابراہیم سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اسے یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ جمعہ کے دن خاموشی صرف اسی وقت ہے جب ائمہ کتاب سے وعظ کررہے ہوں۔