(۵۴۰۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی بَعْدَ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَیْنِ ، فَقِیلَ لَہُ : یَا أَبَا نُجَیْدٍ ، مَا یَقُولُ النَّاسُ ؟ قَالَ : وَمَا یَقُولُونَ؟ قَالَ: یَقُولُونَ: إِنَّک تُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ إِلَی الْجُمُعَۃِ فَتَکُونُ أَرْبَعًا ۔ قَالَ : فَقَالَ عِمْرَانُ : لأَنْ تَخْتَلِفَ النَّیَازِکُ بَیْنَ أضْلاَعِی أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِکَ ۔ فَلَمَّا کَانَتِ الْجُمُعَۃُ الْمُقْبِلَۃُ صَلَّی الْجُمُعَۃَ ، ثُمَّ احْتَبَی فَلَمْ یُصَلِّ شَیْئًا حَتَّی أُقِیمَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ۔
(٥٤٠٩) حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے کہا اے ابو نجید ! آپ نے کچھ سنا کہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے پوچھا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ بتانے والے نے بتایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عمران اس لیے دو رکعتیں پڑھتے ہیں تاکہ چار رکعتیں پوری ہوجائیں ! حضرت عمران نے فرمایا کہ میرے سینے میں پے در پے نیزوں کے وار ہوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں وہ کام کروں جو لوگ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد اگلے جمعے انھوں نے جمعہ کی نماز پڑھی، پھر حبوہ بنا کر بیٹھ گئے اور عصر کی نماز تک انھوں نے کوئی نماز نہ پڑھی۔