(۵۴۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ بُرْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّہْرِیِّ : مَتَی یَحْرُمُ الْبَیْعُ وَالشِّرَائُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ؟ فَقَالَ : کَانَ الأَذَانُ عِنْدَ خُرُوجِ الإِمَامِ ، فَأَحْدَثَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانُ التَّأْذِینَۃَ الثَّالِثَۃَ ، فَأَذَّنَ عَلَی الزَّوْرَائِ لِیَجْتَمِعَ النَّاسُ ، فَأَرَی أَنْ یُتْرَکَ الْبَیْعُ وَالشِّرَائُ عِنْدَ التَّأْذِینَۃِ۔
(٥٤٣٢) حضرت برد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے عرض کیا کہ جمعہ کے دن خریدو فروخت کب ممنوع ہوتی ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ پہلے اذان امام کے نکلنے کے وقت ہوتی تھی۔ پھر حضرت عثمان نے ایک تیسری اذان کا اضافہ کیا، جس کے بعد لوگوں کو جمع کرنے کے لیے منارہ پر اذان دی جانے لگی تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔ میرے خیال کے مطابق اس وقت خریدو فروخت کو ترک کردینا چاہیے۔