(۵۴۴۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ ، قَالَ : أَرَدْتُ الْجُمُعَۃَ فِی زَمَنِ الْحَجَّاجِ ، فَتَہَیَّأْتُ لِلذَّہَابِ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَیْنَ أَذْہَبُ ، أُصَلِّی خَلْفَ ہَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ مَرَّۃً : أَذْہَبُ ، وَمَرَّۃً: لاَ أَذْہَبُ ، قَالَ : فَاجْتَمَعَ رَأْیِی عَلَی الذَّہَابِ ، قَالَ : فَنَادَانِی مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَیْتِ : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِِذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ، فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ } ۔
قَالَ : وَجَلَسْتُ مَرَّۃً أَکْتُبُ کِتَابًا ، فَعَرَضَ لِی شَیْئٌ ، إِنْ أَنَا کَتَبْتُہُ فِی کِتَابِی زَیَّنَ کِتَابِی ، وَکُنْتُ قَدْ کَذَبْتُ ، وَإِنْ أَنَا تَرَکْتُہُ کَانَ فِی کِتَابِی بَعْضُ الْقُبْحِ ، وَکُنْتُ قَدْ صَدَقْتُ ، فَقُلْتُ مَرَّۃً : أَکْتُبُہُ ، وَقُلْتُ مَرَّۃً : لاَ أَکْتُبُہُ ، قَالَ : فَاجْتَمَعَ رَأْیِی عَلَی تَرْکِہِ ، فَتَرَکْتُہُ ، قَالَ : فَنَادَانِی مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَیْتِ : { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَۃِ } ۔
(٥٤٤٥) حضرت میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں میں نے جمعہ کے لیے جانے کا ارادہ کیا اور تیاری بھی کرلی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اس کے پیچھے کیا نماز پڑھوں ؟ پھر کبھی مجھے خیال آتا کہ چلا جاؤں اور کبھی خیال آتا کہ نہ جاؤں۔ چنانچہ میری آخری رائے یہ ٹھہری کہ نماز کے لیے چلا جاتا ہوں۔ اتنے میں مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ آواز آئی (ترجمہ) اے ایمان والو ! جب تم جمعہ کے دن نماز کی پکار سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو ۔
اسی طرح ایک مرتبہ میں ایک خط لکھنے بیٹھا تو ایک بات ذہن میں آئی جو خلاف حقیقت تھی لیکن اس کے لکھنے سے میرا خط مزین ہوجاتا۔ چنانچہ کبھی تو دل میں آتا کہ جھوٹ لکھ کر خط کو مزین کردوں اور کبھی دل میں آتا کہ اس کو چھوڑ دوں اور خط کو سچ پر مشتمل رکھوں۔ بہرحال میری رائے اس کو چھوڑ دینے پر ٹھہری۔ اس پر مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ پکار سنائی دی (ترجمہ) اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں اور آخرت میں پختہ قول کے ذریعہ ثابت قدم رکھتا ہے۔