(۵۵۱۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : بَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إِذْ جَائَ رَجُلٌ یَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، حَتَّی جَلَسَ قَرِیبًا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا فُلاَنُ ، أَمَا جَمَّعْتَ ؟ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَمَا رَأَیْتَنِی ؟ قَالَ : قَدْ رَأَیْتُک آنَیْتَ وَآذَیْتَ۔ (ابوداؤد ۱۱۱۱۔ ابن خزیمۃ ۱۸۱۱)
(٥٥١٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سن رہے تھے کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب بیٹھ گیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری فرمالی تو اس سے فرمایا کہ تم نے جمعہ کی نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا کہ کیا آپ نے مجھے نہیں دیکھا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ پہلے تم نے تاخیر کی اور پھر لوگوں کو تکلیف پہنچائی۔