(۵۵۵) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو سُفْیَانَ بْنُ سَعِیدٍ الأَخْنَسِیُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی خَالَتِی أُمِّ حَبِیبَۃَ فَسَقَتْنِی سَوِیقًا ، ثُمَّ قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی تَوَضَّأْ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔ (احمد ۶/۳۲۸)
(٥٥٥) حضرت ابو سفیان بن سعید اخنسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انھوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔