(۵۵۶۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ وَدِیعَۃَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَیْرِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ یَغْتَسِلُ الرَّجُلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَتَطَہَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طَہُورِہِ ، وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہِ ، أَوْ یَمَسُّ طِیبًا مِنْ بَیْتِہِ ، ثُمَّ رَاحَ ، فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی مَا کَتَبَ اللَّہُ لَہُ ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا تَکَلَّمَ الإِمَامُ ، إِلاَّ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی۔ (بخاری ۸۸۳۔ احمد ۵/۴۴۰)
(٥٥٦٣) حضرت سلمان سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا اور غسل میں خوب صفائی حاصل کرنے کی کوشش کی، پھر تیل لگایا، پھر اپنے گھر سے خوشبو لگائی، پھر جمعہ کے لیے اس طرح گیا کہ دو آدمیوں کے درمیان انھیں چیر کر نہ بیٹھا، پھر فرض نماز ادا کی، پھر امام کے خطبے کے دوران خاموش رہا تو اس کے پچھلے جمعہ تک کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔