(۵۵۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃٍ ، قَالَ : أَدْرَکْتُ ثَلاَثِینَ مِنْ مُزَیْنَۃَ کُلُّہُمْ قَدْ طَعَنَ ، أَوْ طُعِنَ ، أَوْ ضَرَبَ ، أَوْ ضُرِبَ ، إِذَا کَانَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اغْتَسَلُوا ، وَلَبِسُوا مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِمْ ، وَتَطَیَّبُوا ، ثُمَّ رَاحُوا وَصَلَّوْا رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ جَلَسُوا ، فَبَثَّوا عِلْمًا۔
(٥٥٩٠) حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کے تیس آدمیوں سے ملا، ان میں سے ہر ایک نے نیزہ چلایا تھا یا نیزے کے زخم کھائے تھے، ہر ایک نے تلوار چلائی تھی یا تلوار کے زخم کھائے تھے۔ وہ سب جمعہ کے دن غسل کرتے، اپنے سب سے اچھے کپڑے پہنتے اور خوشبو لگا کر جمعہ کے لیے جاتے۔ جمعے کی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر بیٹھ کر علم سکھایا کرتے تھے۔