(۵۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَلَمْ أَجِدْہُ ، فَقَعَدْتُ أَنْتَظِرُہُ ، فَجَائَ وَہُوَ مُغْضَبٌ ، فَقَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ہَذَا ، یَعْنِی الْحَجَّاجَ ، فَأَکَلُوا ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا ، وَلَمْ یَتَوَضَّؤُوا ! ، فَقُلْتُ : أَوَ مَا کُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ہَذَا یَا أَبَا حَمْزَۃَ ؟ قَالَ : مَا کُنَّا نَفْعَلُہُ۔ (عبدالرزاق ۶۷۰)
(٥٦٠) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس کی خدمت میں حاضر ہوا وہ موجود نہ تھے، میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ واپس آئے تو انتہائی غصہ میں تھے، فرمانے لگے میں اس (حجاج) کے پاس سے آ رہا ہوں، لوگوں نے کھانا کھایا اور بغیر وضو کئے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ ” اے ابو حمزہ ! کیا آپ ایسا نہ کیا کرتے تھے “۔ انھوں نے فرمایا ” ہم ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔