(۵۶۴۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : بَلَغَہُ أَنْ تَمِیمَ بْنَ سَلَمَۃَ خَرَجَ یَوْمَ الْفِطْرِ وَمَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ ، فَقَالَ لِصَاحِبِہِ : ہَلْ طَعِمْتَ شَیْئًا ؟ قَالَ : لاَ ، فَمَشَی تَمِیمٌ إِلَی بَقَّالٍ فَسَأَلَہُ تَمْرَۃً أَنْ یُعْطِیَہُ ، أَوْ غَیْرَ ذَلِکَ فَفَعَلَ ، فَأَعْطَاہُ صَاحِبَہُ فَأَکَلَہُ ۔ فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ : مَمْشَاہُ إِلَی رَجُلٍ یَسْأَلُہُ ، أَشَدُّ عَلَیْہِ مِنْ تَرْکِہِ الطَّعَامَ لَوْ تَرَکَہُ۔
(٥٦٤٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ تمیم بن سلمہ عید الفطر کی نماز کے لیے نکلے، ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی بھی تھے، انھوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا تم نے کچھ کھایا ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ اس پر حضرت تمیم ایک دکاندار کے پاس گئے اور اس سے ایک کھجور یا کوئی اور چیز مانگ کر اپنے ساتھی کو دی جو اس نے کھالی۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا ان کے لیے سوال کرنے سے زیادہ برا تھا۔