(۵۷۲۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَیْفَ أَصْنَعُ فِی ہَذَا الْیَوْمِ ، یَوْمِ عِیدٍ ؟ وَکَانَ الَّذِی بَیْنَہُمَا حَسَنٌ ، فَقَالَ : لاَ تُؤَذِّنْ ، وَلاَ تُقِمْ ، وَصَلِّ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ۔ فَلَمَّا سَائَ الَّذِی بَیْنَہُمَا ، أَذَّنَ وَأَقَامَ ، وَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَۃ۔
(٥٧٢٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا کہ میں عید کے دن کس طرح نماز پڑھایا کروں ؟ (اس وقت ان کے باہمی تعلقات ٹھیک تھے) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ نہ اذان دیں اور نہ اقامت کہیں اور خطبہ سے پہلے نماز پڑھائیں۔ جب ان کے باہمی تعلقات خراب ہوگئے تو وہ اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھاتے اور نماز سے پہلے خطبہ دیا کرتے تھے۔