(۵۷۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلاَۃ ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا مَرْوَانُ ، خَالَفْتَ السُّنَّۃَ ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ یَکُنْ یُخْرَجُ ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلاَۃِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : فُلاَنٌ ، فَقَالَ : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ قَضَی مَا عَلَیْہِ۔ (مسلم ۷۹۔ ابوداؤد ۱۱۳۳)
(٥٧٣٥) حضرت رجاء فرماتے ہیں کہ مروان نے منبر نکلوایا اور اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے مروان ! تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، تو نے منبر کو نکلوایا حالانکہ منبر کو کبھی نکلوایا نہیں گیا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ اس موقع پر ابو سعید نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں ہے۔ فرمایا کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔