(۵۸۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ فِی عَہْدِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَۃَ ، ثُمَّ صَلَّی ، وَلَمْ یَخْرُجْ إِلَی الْجُمُعَۃِ ، فَعَابَ ذَلِکَ أُنَاسٌ عَلَیْہِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّۃَ ۔ فَبَلَغَ ابْنَ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : شَہِدْتُ الْعِیدَ مَعَ عُمَرَ فَصَنَعَ کَمَا صَنَعْتُ۔ (ابوداؤد ۱۰۶۴۔ نسائی ۱۷۹۴)
(٥٨٨٦) حضرت وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں ایک دن عید جمعہ کے دن آگئی۔ حضرت ابن زبیر نے نکلنے میں تاخیر کی، جب باہر تشریف لائے تو خطبہ دیا اور لمبا خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جمعہ کے لیے تشریف نہ لائے۔ لوگوں کو ان کے اس عمل انھوں نے سنت کی پیروی کی ہے۔ حضرت ابن زبیر تک یہ بات پہنچی تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ عید کی نماز پڑھی تو انھوں نے بھی ایسا ہی کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔