(۵۹۲۸) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی، قَالَ: حدَّثَنَا شَیْبَانُ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ؟ قَالَ : إِذَا کَانَتْ قَرْیَۃً جَامِعَۃً فَلْیُصَلُّوا رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ۔
قَالَ یَحْیَی : وَسُئِلَ الْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ ؟ فَقَالَ : لاَ جُمُعَۃَ إِلاَّ مَعَ الإِمَامِ فِی الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ ۔
قَالَ یَحْیَی ، وَقَالَ قَتَادَۃُ : لاَ أَعْلَمُ الْجُمُعَۃَ إِلاَّ مَعَ السُّلْطَانِ فِی أَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ ۔
قَالَ یَحْیَی : یُقَالُ : لاَ جُمُعَۃَ ، وَلاَ أَضْحَی ، وَلاَ فِطْرَ إِلاَّ لِمَنْ حَضَرَ مَعَ الإِمَام۔
(٥٩٢٨) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب گاؤں جامعہ ہو تو وہ جمعہ کی طرح دو رکعات پڑھیں۔ حضرت حکم بن عتیبہ فرماتے ہیں کہ جمعہ امام کے ساتھ جامع مسجد میں ہی ہوتا ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق جمعہ خلیفہ وقت کے ساتھ مسلمانوں کے شہروں میں ہوتا ہے۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحی صرف اس کے لیے ہیں جو امام کے ساتھ حاضر ہو۔