(۵۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَحْیَی التَّوْأَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ أُمِّہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتِ : انْطَلَقَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبُولُ ، فَاتَّبَعَہُ عُمَرُ بِمَائٍ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا عُمَرُ ؟ فَقَالَ: مَائٌ تَوَضَّأ بِہِ ، فَقَالَ: مَا أُمِرْت کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَکَانَتْ سُنَّۃً۔ (ابوداؤد ۴۳۔ ابن راھویہ ۱۲۶۲)
(٥٩٧) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیشاب کے لیے گئے تو حضرت عمر پانی لے کر آپ کے پیچھے چل پڑے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اے عمر ! یہ کیا ہے “ فرمایا یہ پانی ہے آپ اس سے وضو کیجئے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” مجھے ہر مرتبہ پیشاب کے بعد وضو کا حکم نہیں دیا گیا، اگر میں ایسا کروں گا تو یہ عمل دین کا حصہ بن جائے گا “۔