(۵۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ: یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ تُوَاظِبُ عَلَیْہِنَّ قَبْلَ الظُّہْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ، فَلاَ تُرْتَجُّ حَتَّی تُقَامَ الصَّلاَۃُ ، فَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ۔ (ابوداؤد ۱۲۶۴۔ احمد ۵/۴۱۶)
(٥٩٩٢) حضرت مسیب بن رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری نے عرض کیا کہ ظہر سے پہلے جن چار رکعتوں کو آپ باقاعدگی سے ادا فرماتے ہیں وہ کیا ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ زوال شمس کے وقت جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں ہوتے جب تک نماز نہ پڑھ لی جائے، میری خواہش یہ ہے کہ سب سے پہلے میری نماز پیش ہو۔