(۶۰۶۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِینَۃِ ، مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّی الْقِبْلَۃَ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ ، فَکَانَ یَشْہَدُ الصَّلاَۃَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقِیلَ : لو ابْتَغَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الرَّمْضَائِ وَالظُّلْمَۃِ ؟ فَقَالَ: وَاللَّہِ مَا یَسُرُّنِی أَنَّ مَنْزِلِی بِلَزْقِ الْمَسْجِدِ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ، کَیْمَا یُکْتَبُ خُطَایَ وَإِقْبَالِی ، وَإِدْبَارِی ، وَرُجُوعِی إِلَی أَہْلِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْطَاکَ اللَّہُ ذَلِکَ ، وَأَعْطَاک مَا احْتَسَبْت أَجْمَعَ ، أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(مسلم ۴۶۰۔ ابوداؤد ۵۵۸)
(٦٠٦٣) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی تھا اور میرے خیال میں قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والوں میں مسجد سے سب سے زیادہ دور گھر اسی کا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم گدھا لے لو تاکہ بارش اور اندھیرے وغیرہ میں اس پر سوار ہو کر مسجد آ جایا کرو۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا اور اس نے بھی حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ کیا مسجد کی طرف میرے آنے جانے والوں قدموں کو بھی میرے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں یہ بھی عطا کردیا اور اس کے علاوہ جس عمل میں تم نے ثواب کی امید رکھی اللہ نے تمہیں وہ بھی عطا کردیا۔