(۶۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ الْبَجَلِیِّ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَتَوَضَّأَ إلَی مَنْکِبَیْہِ وَإِلَی رُکْبَتَیْہِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَلاَّ تَکْتَفِی بِمَا فَرَضَ اللَّہُ عَلَیْک مِنْ ہَذَا؟ قَالَ: بَلَی، وَلَکِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: مَبْلَغُ الْحِلْیَۃِ مَبْلَغُ الْوُضُوئِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَزِیدَنِی فِی حِلْیَتِی۔
(مسلم ۱۰۱)
(٦١٢) حضرت ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انھوں نے وضو کے دوران ہاتھوں کو کندھوں تک اور پاؤں کو گھٹنوں تک دھویا۔ میں نے کہا کہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی فرض کردہ مقدار کافی نہیں ؟ فرمانے لگے کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کے زیورات جنت میں وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ پس میری چاہت ہے کہ میرے زیور میں اضافہ ہو۔