(۶۱۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا دَاوُد بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ یَحْیَی الْمَازِنِیُّ ؛ أَنَّ رَجُلاً حُدَّ فِی فِرْیَۃٍ ، فَکَانَ یَؤُمُّ أَصْحَابَہُ ، فَسَأَلُوا عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : کَیْفَ رَأَیْتُمُوہُ ؟ فَقَالُوا : قَدْ کَانَ مِنْہُ مَا کَانَ ، فَأَثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَؤُمَّہُمْ۔
(٦١٥٤) حضرت عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں ایک آدمی کو غلط الزام لگانے کے جرم میں حد جاری ہوئی تھی وہ اپنے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے ان سے پوچھا کہ تم اسے کیسا پاتے ہو ؟ لوگوں نے کہا اس کا جرم اب نہیں رہا۔ لوگوں نے اس کی تعریف کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کی امامت کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔