hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 6295

.

ابن أبي شيبة

6295
Ibn Abi Shaybah
(۶۲۹۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : دَخَلَتْ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَۃٌ ، قَدْ کَانَ یُعَرِّفُہَا لِبَعْضِ الْمُہَاجِرِینَ ، أَوِ الأَنْصَارِ وَعَلَیْہَا جِلْبَابٌ ، مُتَقَنِّعَۃً بِہِ ، فَسَأَلَہَا : عَتَقْتِ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَمَا بَالُ الْجِلْبَابِ ؟ ضَعِیہِ عَنْ رَأْسِکَ ، إِنَّمَا الْجِلْبَابُ عَلَی الْحَرَائِرِ مِنْ نِسَائِ الْمُؤْمِنِینَ ، فَتَلَکَّأَتْ فَقَامَ إِلَیْہَا بِالدِّرَّۃِ ، فَضَرَبَ بِہَا رَأْسَہَا حَتَّی أَلْقَتْہُ عَنْ رَأْسِہَا۔
(٦٢٩٥) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک باندی آئی، وہ اسے کسی مہاجر یا انصاری کی وجہ سے جانتے تھے۔ اس پر ایک بڑی چادر تھی جس سے اس نے نقاب کر رکھا تھا۔ حضرت عمر نے اس سے سوال کیا کیا تم آزاد ہوگئی ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر یہ چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے ؟ اسے اپنے سر سے اتار دو ، چادر تو آزاد مومن عورتوں کے سر پر ہوتی ہے۔ اس پر وہ باندی بہانے بنانے لگی۔ چنانچہ حضرت عمر نے اپنا درہ اس کے سر پر مارا اور اس کی چادر اتار دی۔