(۶۳۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : کَانَ أُمَرَاؤُنَا إِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ مَطِیرَۃٌ أَبْطَؤُوا بِالْمَغْرِبِ ، وَعَجَّلُوا الْعِشَائَ قَبْلَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ ، فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُصَلِّی مَعَہُمْ لاَ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا ۔ قَالَ عُبَیْدُ اللہِ : وَرَأَیْتُ الْقَاسِمَ وَسَالِمًا یُصَلِّیَانِ مَعَہُمْ فِی مِثْلِ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ۔
(٦٣٢٤) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ بارانی راتوں میں ہمارے امراء مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھتے تھے۔ حضرت ابن عمر بھی ان کے ساتھ یونہی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے۔ حضرت عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو بھی ان کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا۔