(۶۳۵۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ {کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ} ، قَالَ : ذَلِکَ إِذْ أُمِرُوا بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَکَانَ أَبُو ذَرٍّ یَحْتَجِزُ احْتِجَازَہُ ، وَیَأْخُذُ الْعَصَا فَیَعْتَمِدُ عَلَیْہَا ، فَکَانُوا کَذَلِکَ حَتَّی نَزَلَتِ الرُّخْصَۃُ: {فَاقَرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ}۔
(٦٣٥٨) حضرت عطاء فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صحابہ کرام کو رات کے اکثر حصہ میں عبادت کا حکم دیا گیا تھا، حضرت ابو ذر اس آیت کے نزول کے بعد بستر کے قریب بھی نہ جاتے اور لاٹھی کے سہارے سے ساری رات عبادت کرتے۔ پھر اس آیت میں رات کی عبادت کے بارے میں رخصت نازل ہوئی { فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } قرآن میں سے جو تمہارے لیے ممکن ہو اس کی تلاوت کرلو۔