(۶۴۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الرَّجُلِ یُوتِرُ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ ، وَقَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ اللَّیْلِ؟ فَلْیَسْتَفْتِحْ فَلْیَقْرَأْ ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَکَعَ رَکْعَۃً ، ثُمَّ یَضُمُّ إِلَیْہَا أُخْرَی ، فَتَکُونُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔ قَالَ: فَذَکَرْت ذَلِکَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِی مَا ہَذَا ؟۔
(٦٤١٩) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص رات کے بالکل آخری حصہ میں وتر کی نماز شروع کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر قراءت کرے، جب فجر طلوع ہوجائے تو وہ ایک رکعت پڑھے، پھر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے، یہ دو رکعتیں فجر کی دوسنتیں ہوجائیں گی۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت محمد بن سیرین سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟