(۶۵۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ ، فَسَأَلُوہُ عَنْ صَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : مَا سَأَلَنِی عَنْہَا أَحَدٌ مُذْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہَا ، فَقَالَ : صَلاَۃُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ نُورٌ ، فَنَوِّرُوا بُیُوتَکُمْ۔
(٦٥٢١) حضرت عاصم بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس عراق کے کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے گھر میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ جب سے میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کیا ہے اس کے بعد سے کسی نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا تھا کہ آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا اس کے لیے نور ہے۔ ( حضرت عمر فرماتے ہیں کہ) اپنے گھروں کو منور کرو۔