(۶۵۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا الْعَالِیَۃَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی فِیہِ ، وَعَلَیْہِ قَلَنْسُوَۃٌ بِطَانَتُہَا جُلُودُ ثَعَالِبَ ، فَأَخَذَہَا مِنْ رَأْسِہِ وَوَضَعَہَا فِی کُمِّہِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : رَأَیْتُک أَخَذْتَ قَلَنْسُوَتَکَ مِنْ رَأْسِکَ فَوَضَعْتَہَا فِی کُمِّکَ ؟ فَقَالَ : إِنِّی کَرِہْتُ أَنْ أُصَلِّیَ فِیہَا ، وَکَرِہْتُ أَنْ أَضَعَہَا فَتُسْرَقَ ، فَلِذَلِکَ جَعَلْتُہَا فِی کُمِّ قَمِیصِی۔
(٦٥٤٠) حضرت عمرو بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابو عالیہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے، ان کے سر پر لومڑی کی کھال کی بنی ٹوپی تھی۔ جب وہ نماز پڑھنے لگے تو اس ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں رکھ لیا۔ جب انھوں نے نماز مکمل فرمالی تو میں نے کہا آپ نے اپنی ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں کیوں رکھ لیا ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں نے اس میں نماز پڑھنا بھی پسند نہ کیا اور اس کو رکھنا بھی مجھے گوارا نہ ہوا کہ کہیں چوری نہ ہوجائے۔ لہٰذا میں نے اسے اپنی آستین میں ڈال لیا۔