(۶۶۲۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الصَّلاَۃ فِی السَّفِینَۃِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی عُتْبَۃَ مَوْلَی أَنَسٍ ، وَہُوَ مَعَنَا جَالِسٌ : سَافَرْتُ مَعَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، وَأَبِی الدَّرْدَائِ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ حُمَیْدُ : وَأُنَاسٍ قَدْ سَمَّاہُمْ ، فَکَانَ إِمَامُنَا یُصَلِّی بِنَا فِی السَّفِینَۃِ قَائِمًا ، وَنُصَلِّی خَلْفَہُ قِیَامًا ، وَلَوْ شِئْنَا لأَرْفَأنَا وَخَرَجْنَا۔
(٦٦٢٦) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت انس کے مولی عبداللہ بن ابی عتبہ جو کہ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء اور حضرت جابر بن عبداللہ کے ساتھ سفر کیا ہے (حضرت حمید کہتے ہیں کہ انھوں نے کچھ دوسرے لوگوں کا بھی ذکر کیا) ہمارا امام ہمیں کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھاتا تھا اور ہم اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، بعض اوقات اگر کشتی ساحل کے قریب ہوتی تو ہم ساحل پر اتر کر نماز پڑھ لیتے۔