(۶۷۰۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ، وَالنَّاسُ فِی صَلاَۃِ الظُّہْرِ ، فَظَنَنْتُہُ عَلَی غَیْرِ طُہْرٍ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، آتِیکَ بِطُہْرٍ ؟ قَالَ : إِنِّی عَلَی طَہَارَۃٍ وَقَدْ صَلَّیْت ، فَبِأَیِّہِمَا أَحْتَسِبُ ؟۔ قَالَ یُونُسُ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْحَسَنِ ، فَقَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَجَعَلَ الأُولَی الْمَکْتُوبَۃَ وَہَذِہِ نَافِلَۃٌ۔
(٦٧٠٩) حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے پاس حاضر ہوا اس وقت لوگ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں سمجھا کہ ان کا وضو نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن ! میں آپ کے لیے وضو کا پانی لے آؤں ؟ انھوں نے کہا کہ میرا وضو ہے اور میں نماز پڑھ چکا تھا، میں ان دونوں میں سے کس کو شمار کروں ؟ یونس کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت حسن سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے ! انھوں نے پہلی ادا کی گئی نماز کو فرض اور اس کو نفل بنادیا۔