(۶۷۲۴) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَلَی جُنْدِ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، وَأَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ عَلَی جُنْدِ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، وَکُنْتُ بَیْنَہُمَا ، فَاتَّعَدَا أَنْ یَلْتَقِیَا عِنْدِی غَدْوَۃً ، فَصَلَّی أَحَدُہُمَا صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ بِأَصْحَابِہِ ، ثُمَّ جَائَ وَأَنَا أُصَلِّی فَصَلَّی مَعِی۔
(٦٧٢٤) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نعمان بن مقرن اہل کوفہ کے لشکر کے امیر تھے اور ابو موسیٰ اشعری اہل بصرہ کے لشکر کے امیر تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے مجھ سے وقت مقرر کیا صبح کے وقت دونوں میرے پاس جمع ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی اور جب میرے پاس آئے تو میں نماز پڑھا رہا تھا۔ انھوں نے آکر میرے ساتھ بھی نماز پڑھی۔