(۶۷۷۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَبِی بَکْرٍ : مَتَی تُوتِرُ ؟ قَالَ : مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ ، قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَتَی تُوتِرُ ؟ قَالَ : مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ ، قَالَ لأَبِی بَکْرٍ : أَخَذْتَ بِالْحَزْمِ ، وَقَالَ لِعُمَرَ: أَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ۔ (احمد ۳/۳۳۰۔ ابو یعلی ۱۸۱۵)
(٦٧٧٢) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ عشاء کے بعد سونے سے پہلے رات کے ابتدائی حصے میں۔ پھر آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ رات کے آخری حصے میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ آپ حزم پر عمل کرتے ہو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ آپ قوت پر عمل کرتے ہو۔