(۶۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ لَیْلَۃً کُلَّہَا ، فَکَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ یَقْرَأُ قِرَائَۃً یُسْمِعُ أَہْلَ الْمَسْجِدِ ، یُرَتِّلُ ، وَلاَ یَرْجِعُ حَتَّی إِذَا کَانَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ بِمِقْدَارِ مَا بَیْنَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ إِلَی الاِنْصِرَافِ مِنْہَا أَوْتَرَ۔
(٦٨٢٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کے ساتھ رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ آپ اپنی آواز کو قراءت میں اتنا بلند کرتے کہ مسجد میں موجود سب لوگ سن سکتے تھے۔ آپ ترتیل سے پڑھتے تھے اور قراءت کو دہرا دہرا کر نہیں پڑھتے تھے۔ آپ فجر کے طلوع ہونے سے پہلے مغرب کی اذان سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے وقت کے برابر وتر کی نماز پڑھتے تھے۔