(۶۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ إلَی عُمَرَ فَسَأَلُوہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُُمُونِی عَنْ خِصَالٍ مَا سَأَلَنِی عَنْہَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرُکُمْ ! أَمَّا غُسْلُ الْجَنَابَۃِ فَتَوَضَّأَ وُضُوئَکَ لِلصَّلاَۃِ۔ (سعید بن منصور ۲۱۴۳)
(٦٩٩) حضرت عاصم بن عمر فرماتے ہیں کہ اہل عراق کا ایک وفد حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسی بات کے بارے میں پوچھا ہے جس کے بارے میں اس وقت سے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا جب سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں سوال کیا ہے غسل جنابت میں وہ وضو کرو جو تم نماز کے لیے کرتے ہو۔