(۷۲۱۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ ، أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ کَانَ یَؤُمُّ قَومَہُ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ وَأَنَّہُ اشْتَکَی فَخَرَجَ إلَیْہِمْ بَعْدَ شَکْوَاہُ ، فَقَالُوا لَہُ تَقَدَّمْ ، قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أُصَلِّیَ، قَالُوا : لاَ یَؤُمُّنَا أَحَدٌ غَیْرُک مَا دُمْت ، فَقَالَ : اجْلِسُوا فَصَلَّی بِہِمْ جُلُوسًا۔
(٧٢١٨) حضرت عبید اللہ بن ہبیرہ کہتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر اپنی قوم بنو عبد الاشہل کی امامت کرایا کرتے تھے۔ وہ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے اور اپنی بیماری کے بعد جب آئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لوگوں نے کہا کہ جب تک آپ ہیں ہمیں آپ کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھائے گا۔ حضرت اسید نے ان سے کہا کہ پھر تم سب بیٹھ جاؤ اور انھوں نے انھیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔