hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 7238

.

ابن أبي شيبة

7238
Ibn Abi Shaybah
(۷۲۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ جَائَ بِلاَلٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ أَسِیفٌ وَمَتَی یَقُومُ مَقَامَک یَبْکِی فَلاَ یَسْتَطِیعُ فَلَوْ أَمَرْت عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوسُفَ فَأُرْسَلَ إلَی أَبِی بَکْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ إلَی الصَّلاَۃ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلاَہُ تَخُطَّانِ فِی الأَرْضِ ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ مَکَانَک ، قَالَتْ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ ، فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَأْتَمُّونَ بِأَبِی بَکْرٍ۔ (مسلم ۹۵۔ ابن ماجہ ۱۲۳۲)
(٧٢٣٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! ابوبکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کو نماز کا حکم دے دیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابوبکر کو پیغام دیا گیا اور انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہں و اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کرتے تھے۔