(۷۲۴۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُہُ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ مَتَی یَقُمُ مَقَامَک فَلاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : مُرِی أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ ، قَالَ : فَصَلَّی بِہِمْ أَبُو بَکْرٍ حَیَاۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۶۷۸۔ مسلم ۱۰۱)
(٧٢٤٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں جب آپ کا مرض شدت پکڑ گیا تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت عائشہ نے کہا کہ وہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی نماز کا کہو، تم تو صواحبِ یوسف کی طرح ہو۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔