(۷۲۴۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عائِشَۃَ، قَالَتْ : أُغْمِیَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ ؟ قَالَتْ : فَقُلْنَا : لاَ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْک وَسَلَّمَ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، قَالَ : عَاصِمٌ الأَسِیفُ الرَّقِیقُ الرَّحِیمُ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُمُ مَقَامَک لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : ثُمَّ أُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ ، فَرَدَّت عَلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : إنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ : فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ بَیْنَ بَرِیرَۃَ وَنَوْبَۃَ ، تَخُطُّ نَعْلاَہُ إنِّی لأَرَی بَیَاضَ بُطُون قَدَمَیْہِ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إلَیْہِ أَنْ لاَ یَتَأَخَّرَ ، قَالَتْ : فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ بِجَنْبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، والنَّبیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، یُصَلِّی أَبُو بَکْرٍ بِصَلاَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔(ابن حبان ۲۱۱۸)
(٧٢٤٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! وہ انتہائی نرم دل اور مہربان آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی، جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر وہی بات فرمائی، میں نے آپ کو تین مرتبہ جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہوں، ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جسم مبارک میں کچھ خفت محسوس کی، آپ بریرہ اور نوبہ کے سہارے سے باہر تشریف لے گئے، جسم مبارک میں کمزوری کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور میں آپ کے تلووں کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ تو پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارے سے انھیں وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کررہے تھے۔