(۷۲۸۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : شَکُّوا فِی طُلُوعِ الْفَجْرِ فِی عَہْدِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَأَمَرَ مُؤَذِّنَہُ فَأَقَامَ الصَّلاَۃ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّی بِہِمْ وَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَۃَ حَتَّی خَتَمَہَا ، ثُمَّ رَکَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فَاسْتَفْتَحَ آلَ عِمْرَانَ حَتَّی خَتَمَہَا ، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ، قَالَ وَأَضَائَ لَہُمُ الصُّبْحُ۔
(٧٢٨٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے زمانے میں لوگوں کو طلوع فجر کے بارے میں شک ہوا۔ انھوں نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اس نے دوبارہ اقامت کہی اور حضرت ابن عباس نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ انھوں نے پوری سورة البقرۃ پڑھی، پھر رکوع کیا پھر سجدہ کای پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پوری سورة آل عمران پڑھی۔ پھر رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو روشنی ہوچکی تھی۔