(۷۶۰۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أُنیَسِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : امْتَرَی رَجُلٌ مِنْ بَنِی خُدْرَۃَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِی الْمَسْجِدِ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی ، فَقَالَ الْخُدْرِیِّ : ہُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ الْعَوْفِی : ہُوَ مَسْجِدُ قُبَائٍ فَأَتَیَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ : ہُوَ ہَذَا ہُوَ ہَذَا ، یَعْنِی مَسْجِدَہُ وَفِی ذَلِکَ خَیْرٌ کَثِیرٌ۔ (ترمذی ۳۲۳۔ احمد ۳/۲۳)
(٧٦٠١) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ بنوخدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ خدری کہتا تھا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور عوفی کہتا تھا کہ اس سے مراد مسجد قباء ہے۔ وہ دونوں فیصلے کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ وہ میری مسجد ہے، وہ میری مسجد ہے۔ اس میں بہت خیر ہے۔