(۷۶۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہُمْ تَذَاکَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ فَذَکَرَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ ، أَوْ أُمُّ حَبِیبَۃَ کَنِیسَۃً رَأَتْہَا فِی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ فِیہَا تَصَاوِیرُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُولَئِکَ کَانُوا إذَا کَانَ فِیہِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِہِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوہُ أُولَئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ۔ (بخاری ۴۳۴۔ مسلم ۱۶)
(٧٦٣٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں گفتگو کررہے تھے، اس میں حضرت ام سلمہ یا ام حبیبہ نے کہا کہ انھوں نے حبشہ میں ایک کنیسہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا کہ ان لوگوں کا معمول یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی گذرتا تو اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اس کی تصویریں بنا لیتے، یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔