(۷۶۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْد ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عُمَرَ فِی حَجَّۃٍ حَجَّہَا فَقَرَأَ بِنَا فِی الْفَجْرِ : (أَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِأَصْحَابِ الْفِیلِ) ، وَ(لإِیلاَفِ قُرَیْشٍ) فَلَمَّا قَضَی حَجَّہُ وَرَجَعَ وَالنَّاسُ یَبْتَدِرُونَ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ فَقَالُوا : مَسْجِدٌ صَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَکَذَا ہَلَکَ أَہْلُ الْکِتَابِ اتَّخَذُوا آثَارَ أَنْبِیَائِہِمْ بِیَعًا مَنْ عَرَضَتْ لَہُ مِنْکُمْ فِیہِ الصَّلاَۃ فَلْیُصَلِّ وَمَنْ لَمْ تَعْرِضْ لَہُ مِنْکُمْ فِیہِ الصَّلاَۃ فَلاَ یُصَلِّ۔
(٧٦٣٢) حضرت سوید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ ایک حج کے لیے گئے۔ انھوں نے فجر کی نماز میں سورة الفیل اور سورة القریش کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ نے حج پورا کرلیا اور واپس آرہے تھے تو کسی جگہ جا کر لوگ تیزی سے بھاگے۔ حضرت عمر نے پوچھا یہاں کیا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے، انھوں نے اپنے انبیاء کے آثار کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ ہونا یہ چاہیے کہ اگر تمہیں یہاں نماز کا وقت ہوجائے تو نماز پڑھ لو اور وقت نہ ہو تو نماز نہ پڑھو۔