(۷۶۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ لِعُمَرَ تَشْہَدُ صَلاَۃَ الصُّبْحِ وَالْعِشَائِ فِی جَمَاعَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَقِیلَ لَہَا : لِمَ تَخْرُجِینَ وَقَدْ تَعْلَمِینَ أَنَّ عُمَرَ یَکْرَہُ ذَلِکَ وَیَغَارُ ؟ قَالَتْ : فَمَا یَمْنَعُہُ أَنْ یَنْہَانِی ، قَالُوا : یَمْنَعُہُ قَوْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَمْنَعُوا إمَائَ اللہِ مَسَاجِدَ اللہِ۔ (بخاری ۹۰۰۔ احمد ۲/۷)
(٧٦٩٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی ایک بیوی فجر اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھا کرتی تھی۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم نماز کے لیے کیوں جاتی ہو حالانکہ تم جانتی ہو کہ حضرت عمر اس بات کو ناپسند خیال فرماتے ہیں اور اس پر غصہ کھاتے ہیں ؟ اس خاتون نے کہا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کرتے ؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول انھیں تمہیں منع کرنے سے روکتا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔