(۷۷۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا إیَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ ، قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ عَنِ امْرَأَۃٍ جَعَلَتْ عَلَیْہَا إِنْ أُخْرِجَ زَوْجُہَا مِنَ السِّجْنِ أَنْ تُصَلِّیَ فِی کُلِّ مَسْجِدٍ تُجَمَّعُ فِیہِ الصَّلاَۃ بِالْبَصْرَۃِ رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : تُصَلِّی فِی مَسْجِدِ قَوْمِہَا فَإِنَّہَا لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ لَوْ أَدْرَکَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَوْجَعَ رَأْسَہَا۔
(٧٧٠٠) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کا خاوند جیل سے آزاد ہوگیا تو وہ بصرہ کی ہر اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے گی جس میں جماعت ہوتی ہے۔ اس نذر کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے، کیونکہ وہ اپنی اس نذر کو پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر حضرت عمر اسے دیکھتے تو اس کے سر پر مارتے۔