(۷۷۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ وِقَائٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : رَأَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَجُلاً یُسَبِّحُ بِتَسَابِیحَ مَعَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : إنَّمَا یُجْزِئہ مِنْ ذَلِکَ أَنْ یَقُولَ : سُبْحَانَ اللہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، وَیَقُولَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، وَیَقُولَ : اللَّہُ أَکْبَرُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شَائَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔
(٧٧٥١) حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو تسبیح گننے کے اسباب لیے تسبیحات پڑھ رہا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اس کے لیے اتناکہنا ہی کافی ہے (ترجمہ) اللہ کی پاکی ہے، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔ اللہ کے لیے بڑائی ہے، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔